برطانیہ میں دہشت گردی سے تعلق، 109 افراد پر فرد جرم عائد: بی بی سی کی تحقیق

بی بی سی کو ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ میں 2014 کے بعد سے 100 سے زیادہ افراد پر شام اور عراق سے جڑے دہشت گردی کے واقعات سے تعلق کی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
ان افراد میں سب سے کم عمر 14 سالہ سیاہ فام نوجوان ہے جسے آسٹریلیا میں دہشت گردی کے واقعے میں ملوث ہونے پر اکسایا گیا۔
اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ جن افراد کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے ہیں ان میں خواتین اور نوجوان لڑکیوں کی تعداد بھی بڑھی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ رواں برس مارچ کے بعد سے دہشت گردی کے پانچ منصوبے جبکہ سنہ 2013 کے بعد سے مجموعی طور پر 18 منصوبے ناکام بنائے گئے ہیں۔
گذشتہ دو برس میں بی بی سی نے برطانیہ میں ایسے کئی لوگوں کی نشاندہی کی جو شام اور عراق کے تنازعوں کی جانب مائل ہوئے۔
مفصل آن لائن ریکارڈ میں دیکھا جاسکتا ے کہ سنہ 2014 کے بعد سے مقدمات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
دہشت گردی کے الزام کے تحت سزا پانے والوں میں سابق قیدی، ایک ہسپتال کے ڈائریکٹر، ایک پولیس اہلکار کہ بیٹے سمیت مختلف لوگ شامل ہیں۔
ان افراد میں ایک شادی شدہ جوڑا، بہن بھائی، اور ایک چھ بچوں کی ماں بھی شامل ہیں۔
سزا پانے والے 109 افراد میں 18 خواتین ہیں جبکہ ان میں سے 85 فیصد افراد کبھی شام اور عراق نہیں گئے۔
ان میں سے بیشتر نے وہاں جانے کا منصوبہ بنایا لیکن اس پر عمل کرنے سے پہلے ہی انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ جبکہ بعض کو دولتِ اسلامیہ جیسی کالعدم تنظیموں کے لیے سوشل میڈیا پر حمایت ظاہر کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی۔
لندن حملوں میں آٹھ افراد کی ہلاکت کے بعد برطانوی وزیرِ اعظم نے انسداد دہشت گردی سے متعلق لائحہ عمل پر دوبارہ غور کرنے اور پولیس اور سکیورٹی اداروں کو مزید اختیارات دینے پر زور دیا۔

Src Via : BBC

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*