جرمنی میں ہم جنس پرست شادیاں قانونی قرار

جرمنی کے ارکانِ پارلیمان نے واضح اکثریت سے ہم جنس پرست شادیوں کو قانونی بنانے کی منظوری دے دی ہے۔ اس سے چند ہی روز قبل چانسلر انگیلا میرکل نے اس بارے میں ووٹنگ پر مخالفت ترک کر دی تھی۔
اس منظوری کے بعد ان جوڑوں کو مکمل ازدواجی حقوق مل جائیں گے جو اب تک سول یونین تک محدود تھے۔ اب وہ بچوں کو گود بھی لے سکیں گے۔
میرکل کے سیاسی مخالفین اس کے حق میں تھے لیکن جرمن چانسلر نے، جنھوں نے ابھی پیر ہی کے روز اس معاملے پر آزاد ووٹنگ کی منظوری دی تھی، خود اس کے خلاف ووٹ دیا۔
اس مسودۂ قانون کو 393 قانون سازوں کا ووٹ ملا، مخالفت میں 226 ووٹ آئے، جب کہ چار قانون سازوں نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جرمن قانون اب کچھ یوں پڑھا جائے گا: ‘شادی دو افراد کے درمیان زندگی بھر کا ساتھ ہے، چاہے وہ مختلف جنس سے ہوں یا ایک ہی جنس سے۔’
جمعے کو ووٹنگ سے قبل میرکل نے کہا کہ ان کے نزدیک شادی ایک مرد اور ایک درمیان ہوتی ہے، تاہم انھوں نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ اس مسودۂ قانون کی منظوری سے ‘زیادہ سماجی ہم آہنگی اور امن آئے گا۔’
اچانک ووٹنگ
2013 میں اپنی انتخابی مہم چلاتے وقت میرکل نے ہم جنس پرست شادی کے خلاف بیانات دیے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ ‘بچوں کی بہبود’ ہے۔ انھوں نے تسلیم کیا تھا کہ ان کے لیے یہ مسئلہ خاصا مشکل رہا ہے۔
تاہم 26 جون کو خواتین کے ایک میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے یہ کہہ کر سب کو حیران کر دیا کہ انھوں نے دوسری جماعتوں کی طرف سے ہم جنس پرست شادیوں کی حمایت کا جائزہ لیا ہے اور وہ مستقبل میں اس پر ووٹنگ کروانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان کی اپنے حلقے میں ایک ہم جنس پرست جوڑے سے ملاقات ہوئی جو آٹھ لے پالک بچوں کو پال رہے تھے۔ اس سے ان کا نظریہ بدل گیا۔
اس کے بعد سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو گئی جس میں اکثر لوگوں نے ہم جنس پرست شادیوں کے حق میں بیانات دینا شروع کر دیے۔
حال ہی میں کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق 83 فیصد جرمن باشندے شادی میں مساوات کے قائل ہیں۔

اب کیوں ووٹنگ ہوئی؟
جرمنی میں ستمبر میں انتخابات ہو رہے ہیں اور انگیلا میرکل نہیں چاہتیں کہ لوگ انھیں پرانے خیالات کی مالکہ سمجھیں۔ اس کے علاوہ ان کی اتحادی جماعت ایس پی ڈی نے بھی دھمکی دی تھی کہ اگر اصلاحات نہ ہوئیں تو وہ آئندہ ان سے اتحاد نہیں کریں گے۔
اب جرمنی میں صرف ایک جماعت اے ایف ڈی ہی باقی رہ گئی ہے جو ہم جنس پرست شادی کی مخالفت کر رہی ہے۔
یورپ میں اور کہاں کہاں ہم جنس پرست شادی قانونی؟
یورپ کے کئی ملکوں نے پہلے ہی سے ہم جنس پرست شادیوں کی منظوری دے رکھی ہے۔ ان میں ناروے، سویڈن، ڈینمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، برطانیہ، فرانس، سپین، پرتگال، بیلجیئم، لکسمبرگ اور جمہوریہ آئرلینڈ شامل ہیں۔
تاہم آسٹریا اور اٹلی میں ہم جنس پرست جوڑوں کو صرف سول پارٹنرشپ کا حق حاصل ہے۔

Src Via : BBC

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*