جماعتِ احمدیہ کے خلاف خبریں باعثِ تعصب: رپورٹ

پاکستان میں جماعتِ احمدیہ کی جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق 2016 میں بھی ان کے خلاف مبینہ مذہبی تعصب اور منافرت کا سلسلہ جاری رہا اور ملک میں ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے کے چھ افراد کو قتل کیا گیا۔
اس طرح پاکستان میں 1984 سے لے کر 2016 تک قتل کیے جانے والے احمدی افراد کی مجموعی تعداد 260 ہو گئی ہے۔
تاہم رپورٹ میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ ’ان کے خلاف یک طرفہ اور نفرت انگیز خبروں کی اشاعت کا سلسلہ مقامی اخبارات میں نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے‘۔
جماعتِ احمدیہ کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقامی اخباروں میں ان کے خلاف 1700 سے زائد نفرت انگیز خبریں اور 313 مضامین شائع ہوئے۔
تاہم جماعتِ احمدیہ پاکستان کی اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے عالمی مجلس ختمِ تحفظِ نبوت کے رہنما مولانا عبدالنعیم نے ہمارے نامہ نگار عمر دراز کو بتایا کہ ایسی رپورٹیں محض پروپیگینڈا پر مبنی ہیں۔
’یہ جھوٹ پر مبنی ہے جس کا مقصد صرف اسلام، پاکستان اور مسلمانوں کو بدنام کرنا ہے۔ یہ نہ تو پاکستان کے آئین کو مانتے ہیں اور نہ ہی پارلیمنٹ کو مانتے ہیں اور نہ اس کے بنائے گئے قوانین کو مانتے ہیں۔‘
بی بی سی سے سے بات کرتے ہوئے جماعتِ احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین کا کہنا تھا کہ ایسی خبروں سے ان کی جماعت کے افراد کے خلاف نفرت پھیلتی ہے اور پاکستان میں ان کے لیے زندگی مزید غیر محفوظ بن جاتی ہے۔
’ہمارے خلاف جو خبریں لگائی جاتی ہیں ان میں ہمارے خلاف شدت پسندی کے واقعات کو ہوا دینے سے لے کر ہمیں غدار قرار دیے جانے تک کی باتیں کی جاتیں ہیں۔‘
سلیم الدین کا مزید کہنا تھا کہ ایسی خبریں نہ صرف ان کے بنیادی حقوق کے خلاف ہیں بلکہ ان کی وجہ سے کئی دفعہ ان کے خلاف پر تشدد واقعات بھی ہوئے ہیں۔
’ایسی خبروں کی بعد ہمارے خلاف بہت واقعات بھی ہوئے ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ کس خبر کے بعد ایسا ہوا ہے مگر جو پڑھتا ہے اسے اشتعال آتا ہے۔ ان سے ہمارے خلاف نفرت بڑھی ہے اور بڑھتی ہے۔‘
سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ احمدیوں پر منظم قاتلانہ حملے کیے گئے اور محض عقیدہ کے اختلاف کی بنا پر چھ احمدیوں کو قتل کیا گیا
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں دوالمیال ضلع چکوال میں ہجوم نے جماعتِ احمدیہ کی عبادت گاہ پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا تھا جو کہ تا حال سرکاری انتظامیہ کے زیرِ قبضہ ہے اور احمدی اپنے حقِ عبادت سے بھی محروم ہیں۔
رپورٹ میں ان کا مطالبہ تھا کہ احمدیوں کے بنیادی انسانی حقوق فوری بحال کیے جائیں اور احمدیوں کے خلاف امتیازی قوانین ختم کیے جائیں۔

Src Via : BBC

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*