دنیا کے امیر ترین کھلاڑی

کھیلو گے کودو گے ہو گے خراب پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب
یہ وہ کہاوت ہے جو عموماً بچپن سے والدین اپنی اولاد کے کانوں میں ڈالتے آئے ہیں۔ 70 یا 80 کی دہائی تک تو اس کہاوت میں شاید کوئی صداقت ہو لیکن پیپسی اور میلینئیل جینیریشن نے اس کہاوت کو خطرناک طور پر غلط ثابت کردیا۔
کھیلوں میں عوام کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور ایڈورٹائزنگ یعنی اشتہارات کی دنیا میں سپورٹس سٹارز کی مانگ اور ان کے مداحوں کی تعداد میں اضافہ وہ چند وجوہات ہیں جنھوں نے کھیلوں میں آمدنی کی شرح کو حیرت انگیز طور پر بدل دیا ہے۔
ایسا نہیں کے 80 اور 90 کے دور میں کھلاڑیوں کی آمدنی کم تھی، ان کی آمدنی تب بھی خاصی زیادہ تھی۔ لیکن صرف انفرادی سپورٹس میں جیسا کہ باکسنگ، گالف، فارمولہ ون اور ٹینس وغیرہ۔
لیکن 90 کی دہائی میں اس ٹرینڈ میں تبدیلی آئی اور ٹیم سپورٹس کھیلنے والے کھلاڑیوں کی آمدنی میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ کچھ ناقدین اسے سوشل میڈیا بوم سے جوڑتے ہیں جس نے ایڈورٹائزنگ کی دنیا کو دس سال کے اندر مکمل بدل دیا، تو کچھ اسے اوڈیئنس بیہیوئیر چینج یعنی مداحوں کے رویے میں تبدیلی کو اس کی وجہ بتاتے ہیں۔
اصل وجوہات کے لیے شاید ایک تحقیق کرنا پڑے۔ لیکن اس سال کے دس امیر ترین کھلاڑیوں کی فہرست میں صرف تین ایسے کھلاڑئ ہیں جو کہ انفرادی کھیل کھیلتے ہیں۔ باقی سات کھلاڑیوں کا تعلق ٹیم سپورٹس سے ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ انفرادی کھیل کھیلنے والے کھلاڑئ ٹاپ تھری یعنی امیرترین کھلاڑیوں کی پہلی تین صفوں میں نہیں۔

پہلے نمبر پردنیا کے امیر ترین فٹبال کلب ریال میڈرڈ کی طرف سے کھیلنے والے سٹار فٹبالر رونالڈو ہیں۔ 2016 میں اپنی ٹیم کو چیمپیئنز لیگ جتوانے اور فیفا بلون ڈی اور کا اعزاز حاصل کرنے والے رونالڈو کی سالانہ آمدنی 93 ملین ڈالر ہے۔ 32 سالہ رونالڈو کو ریال میڈرڈ کی طرف سے 58 ملین ڈالر تنخواہ ملتی ہے (جو کہ یورپ میں سب سے زیادہ ہے) اور 35 ملین ڈالر وہ اشتہارات سے کماتے ہیں۔

دوسرے نمبر پر این بی اے سٹار لی بران جیمز ہیں۔ ان کی آمدنی 86.2 ملئین ڈالر ہے۔ باسکٹ بال ٹیم کلئیو لینڈ کیویلیئرز سے کھیلنے والے لی بران جیمز باکسٹ بال کی تاریخ میں تیسرے ایسے کھلاڑئ ہیں جنہیں 30 ملئین ڈالر سے زیادہ معاوزا ملتا ہے۔ اس سے پہلے یہ اعزاز باسکٹ بال لیجینڈ مائیکل جورڈن اور کوب برائنٹ کے پاس تھا۔ جیمز کی تنخواہ 31.2 ملئین ڈالر ہے اور اشتہارات سے ان کی آمدنی 55 ملئین ڈالر ہوتی ہے۔
تیسرے نمبر پر بارسلونا کلب کے سٹار کھلاڑی اور رونالڈو کے حریف لائنل میسی ہیں جن کی حال ہی میں شادی ہوئی ہے۔ میسی کی کل آمدنی 80 ملئین ڈالر ہے جس میں سے ان کی تنخواہ 52 ملئین اور اشتہارات سے وہ 27 ملئین ڈالر کماتے ہیں۔
چوتھے نمبر پر انفرادی کھیل کھیلنے والے ٹینس لیجینڈ راجر فیڈرر ہیں، لیکن پہلے تین کھلاڑیوں سے اگر آمدنی میں ان کا موازنہ کیا جائے تو ان کے مقابلے میں لگ بھگ 30 ملین پیچھے ہیں۔ فیڈرر کی کل آمدنی 64 ملین ڈالر ہے، جس میں سے ان کی تنخواہ صرف چھ ملین ہے اور اشتہارات سے وہ 58 ملین کماتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ فیڈرر بیس سال سے ٹینس کھیل رہے ہیں اور اس کھیل کی مقبولیت میں اضافے اور عام لوگوں میں اس کھیل کی پہچان بنانے میں ان کا بڑآ ہاتھ ہے۔ جیسا کہ گالف میں ٹائیگر وڈز۔

پانچویں نمبر پر باسکٹ بال کھلاڑئ کیون ڈیورینٹ ہیں، ان کی آمدنی 60.6 ملین ہے، اس میں ان کی تنخواہ 26.6 ملین جبکہ اشتہارات سے ان کی آمدنی 34 ملین ہوتی ہے۔
چھٹے نمبر پر این ایف ایل سٹار اینڈریو لک ہیں۔ امریکن فٹبال کھیلنے والے اینڈریو لک کی آمدنی 50 ملین ڈالر ہے جس میں سے ان کی تنخواہ 47 ملین اور اشتہارات سے وہ تین ملین کماتے ہیں۔
ساتویں نمبر پر باسکٹ بال کھلاڑی سٹیفن کری ہیں جن کا آمدنی 47 ملین ہے، آٹھویں پر بھی باسکٹ بال کھلاڑی ہے ہیں۔
ستائیس سالہ جیمز ہارڈن کی آمدنی .746 ملین ہے جبکہ نویں نمبر پر برطانیہ سے تعلق رکھنے والے فارمولہ ون سٹار لیوس ہیملٹن ہیں جو کہ 46 ملین کماتے ہیں۔ دسویں اور آخری نمبر پر این ایف ایل سٹار ڈریو بریز ہیں جن کی آمدنی 45.3 ملین ڈالر ہے۔

Src Via : BBC

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*