پاکستان اور انڈیا کی سائبر دنیا میں دوستی

پاکستان اور انڈیا میں امن کے پیروکار اب سائبر دنیا میں دوستی کریں گے۔ یہ سائبر رابطہ ’امن ابھی اور ہمیشہ کے لیے‘ مہم کا حصہ ہے جو یکم جولائی سے شروع کی گئی ہے اور انڈیا کی یوم آزادی یعنی 15 اگست تک جاری رہے گی۔
امن مہم کے دوران پاکستان اور انڈیا میں پینٹگز، اسکول کے بچوں میں مقابلے، سیمینار، ڈاکیومینٹریز کی نمائش ، گیت و سنگیت کی محفلیں بھی منعقد کی جائیں گی۔ یہ سرگرمیاں نئی دلی، حیدرآباد دکن، احمد آباد، بھوپال، لکھنؤ، شملہ، کلکتہ، ایودھیا، لاہور، کراچی اور حیدرآباد سمیت 30 شہروں میں منعقد کی جائیں گی۔ یہ سرگرمیاں ’دل سے‘ ویب سائیٹ پر بھی ڈالی جائیں گی جس کی خاص طور پر ایپلیکشن بنائی جارہی ہے۔
انڈیا میں قومی یکہجتی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے اتحاد کنفیڈریشن آف والنٹیئری ایسوسی ایشن، پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن اور مزدورں کی تربیتی ادارے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر اینڈ ایجوکیشن اور دیگر تنظیموں کے اشتراک سے یہ مہم جاری ہے۔
کنفیڈریشن آف والنٹیئری ایسوسی ایشن کے ایگزیکیوٹو ڈائریکٹر اور ’امن ابھی‘ مہم کے کنوینر مظہر حسین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور انڈیا میں جو ویزہ کی مشکلات ہیں اس کا انہیں اندازہ ہے اس لیے وہ ایک قدم آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
’ہم سائبر ورلڈ میں انڈین اور پاکستانیوں کو ملانے کی کوشش کریں گے، تاکہ ایک دوسرے کو سمجھ سکیں اور دوستیاں بنیں کیونکہ ضروری نہیں ہے کہ آپ جسمانی طور پر موجود ہوں۔ اب وہ زمانہ چلا گیا جب ہم افسوس کرتے تھے کہ ہمیں آگے جانے اور لوگوں کو سمجھنے کا موقع نہیں ملا۔ ان دوریوں اور دشمنیوں کو اگر کوئی چیز شکست دے گی تو وہ ہے سائبر اسپیس۔

مظہر حسین حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس وقت سکائپ، گوگل ہینگ آؤٹ کے علاوہ بھی سوشل میڈیا کے کئی پلیٹ فارم موجود ہیں ہے۔ جن کے ذریعے آپ اپنی جگہ بیٹھ کر دوسری جگہ رابطہ کرسکتے ہیں۔
اس مہم کے دوران اڑیسا کی ایک تنظیم معذور افراد کے ساتھ پاکستان کے معذور افراد کی سائبر ملاقات کا بندوست کرے گی جو اپنی معاشرتی اور ذاتی چئلینجز کا تبادلہ کریں گے۔
پاکستان اور انڈیا میں تقریبا 5 سال کے بعد فن، مذاکرات اور موسیقی کے ذریعے امن قائم کرنے کی مہم بحال ہو رہی ہے۔ ممبئی بم دھماکوں، پٹھان کوٹ اور اڑی حملوں کے علاوہ سرحدوں پر گولہ باری میں ہلاکتوں کے بعد امن کے پیروکاروں کے لیے مشکلات پیدا ہوچکی تھیں۔
پاکستان میں اس مہم کے کنوینر اور انسانی حقوق کمیشن کے وائس چیئرمین اسد اقبال بٹ کا کہنا ہے کہ 2012 میں مشترکہ کنوینشن الٰہ آباد میں کیا گیا تھااس کے بعد اگلے سال یہ کنوینشن پاکستان میں ہونا تھا جو نہیں ہوسکا۔
’تمام انتظامات ہوچکے تھے ہوٹل بک کرلیے گئے، انڈیا کے مختلف علاقوں سے لوگ دلی پہنچ گئے لیکن ایک دن پہلے حکومت پاکستان نے کلیئرنس دینے سے انکار کردیا۔ اس کے بعد بھارتی حکومت کا بھی کچھ ایسا ہی رویہ ہے۔‘
پاکستان اور انڈیا میں کشیدگی کے بعد پاکستان میں انڈین فلموں کی نمائش پر سینما مالکان نے پابندی عائد کردی، پاکستانی اداکاروں نے انڈیا جانا کم کردیا۔ انڈیا کے ہسپتالوں میں جن بچوں کے دل کا علاج اور جگر کی پیوندکاری ہونی تھی ان کے لیے بھی ویزہ بند ہوگئے۔
اسد اقبال بٹ کا کہنا ہے کہ چند سال پہلے تک یہ سمجھا جارہا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ حالات بہتری کی طرف جائیں کیونکہ دونوں سیاسی حکومتیں شاید چاہ رہی ہیں کہ اس میں بہتری لائی جائے لیکن اب ایک نئی صورتحال پیدا ہو رہی ہے وہاں پر بھی مسلح افواج جو پہلے اس طریقے سے ملوث نہیں تھی اب ان کی پریس کانفرنسز سامنے آرہی ہیں اور یہاں بھی فوج ہی نظر آتی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیاسی حکومتوں پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔ اسی لیے دونوں اطراف سے یہ سوچا گیا کہ یہ ہی وقت ہے کہ دونوں حکومتوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ مذاکرات پر آمادہ ہوں۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی میں دونوں ممالک کے میڈیا کے کردار پر بھی تنقید ہوتی رہی ہے کہ اس کا رویہ جارحانہ ہوتا ہے۔ 2010 میں پاکستان کے جنگ گروپ اور ٹائمز آف انڈیا گروپ نے ’امن کی آشا‘ کے نام سے مشترکہ مہم کا آغاز کیا تھا، لیکن بعض حلقوں نے اس پر بھی اعتراضات کیے۔
پاک انڈین پیس فورم کے رہنما اور صحافی جیتن ڈیسائی بھی حالیہ مہم کا حصہ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ایک بھی پاکستانی جرنلسٹ انڈیا میں نہیں اور انڈین جرنلسٹ پاکستان میں نہیں، حالانکہ انڈیا کے بارے میں پاکستان اور پاکستان کے بارے میں انڈیا کے عوام جاننا چاہتے ہیں اس لیے دونوں ملکوں میں صحافی ہونے چاہئیں۔
’ان دنوں وقت ٹی وی چینلز دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ جنگ ہی مسئلے کا حل ہے۔ ہمارے ٹی وی چینلز پر پاکستان کے جو سخت گیر لوگ ہیں انہیں بلایا جاتا ہے اور پاکستانی چینلز انڈیا کے سخت گیر لوگوں کو مدعو کرتے ہیں۔ حالانکہ صحافیوں کو آبجیکٹو ہونا چاہیے اسے قومیت میں میں جانے کے بجائے اگر ملک میں کچھ خراب ہورہا ہے تو اس پر بولنا چاہیے۔
جیتن ڈیسائی کا کہنا ہے کہ بات چیت نہ چاہنے والے انڈیا میں بھی ہیں اور پاکستان میں بھی ہیں لیکن دونوں ملکوں میں جو خاموشی اکثریت ہے وہ امن چاہتی ہے۔

Src Via : BBC

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*